بھٹکل:27؍جنوری(ایس اؤ نیوز) یوم جمہوریہ کی مناسبت سے 26جنوری کو بعدنماز عشاء نوائط کالونی میں واقع رابطہ ہال میں مجلس اصلاح وتنظیم کی جانب سے دستور ی حقوق اور فرائض کے موضوع پر اہم جلسہ ، پینل ڈسکشن اور کوئز مقابلہ کا انعقاد ہوا۔
جلسے کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا۔ مولانا عبدالرحمن سیاف ندوی نے استقبالیہ کلمات پیش کئے، تنظیم کےجنرل سکریٹری ایم جے عبدالرقیب نے افتتاحی کلمات پیش کئے ۔ مہمان خصوصی جماعت اسلامی ہند کرناٹکا کے سکریٹری اکبر علی اُڈپی نے دستور پر مفصل روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ آزادی کی جدوجہد میں مسلمان اور علماء سب سے زیادہ شریک ہوئے، قربانی دی اور ملک کو آزادی بھی دلائی ، اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہےکہ انگریزوں نے مسلمانوں سے حکومت چھینی تھی تو ظاہر بات ہے کہ زیادہ درد اور تکلیف بھی مسلمانوں کو ہی ہوئی تھی ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے موجودہ حالات سے مسلمانوں کوڈرنے ، خوف زدہ یا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کو حق اور انصاف کے علم برداربن کر کھڑے ہونا چاہئے ۔ تاریخ کے حوالے سے انہوں نےکہاکہ اس ملک پر قریب 985سال موریہ، گپتہ ، کشن، ہرش وردھن، پلوا، پانڈوا نے حکومت کی ،اس کے بعد ترکوں، ایرانیوں اور افغانیوں کی حکومت رہی۔ پھر ڈچ، پرتگیز اور انگریزوں کی حکومت رہی۔ مختلف زمانوں میں یہاں اہلسنت الجماعت ، اہل حدیث، تبلیغی جماعت، جمعیتہ العلماء اورجماعت اسلامی ہند جیسی تحریکات نے کام کیاہے اور آزادی کے بعد انتخابات کے ذریعے مختلف حکومتیں یہاں اقتدار پر رہی ہیں، حالات بدلتے رہتےہیں اس سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔یہاں بھارت میں اسلام 632میں ہی آیا ہے تو پھر 8-10سال کی حکومت سے کیا گھبرانا ۔
انہوں نے کہاکہ اس ملک کے دستور کو بنانے کے لئے جو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس میں 296ارکان تھے تو ان میں کئی مسلمان ممبران بھی تھے۔ دستور کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے دستور بنانے کے دوران قرآن و حدیث سے استفادہ کیاہوگا۔ کیونکہ جو دستور میں شامل انسانی حقوق، آزادی وغیرہ اس کی طرف اشارہ کرتےہیں۔ اسی طرح انہوں نے دستور کی مختلف اصطلاحات کی تشریح کرتےہوئےمسلمانوں کو بتایا کہ ملک میں ایک دستور ہے اسی کےمطابق حکومت اور دیگر کام ہونگے۔ مسلمانوں کے پاس بھی ایک دستور ہے۔ جس میں سارے عالم کے انسانوں کی بات کی گئی ہے۔اس میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے جس میں کوئی نقص نہیں ہے۔ اس کا بنانے والا ساری کائنات کا خالق، مالک، حاکم ، پرودگار ہے مسلمانوں کو اس پر بھی غور کرتے ہوئے ہرایک تک اس کے پیغام کو پہنچانےکی ضرورت ہے۔
تنظیم کے صدر عنایت اللہ شاہ بندری نے صدارتی خطاب کیا۔ عتیق الرحمن شاہ بندری نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ ڈائس پر مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل کے قاضی مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی اور محمد یونس قاضیا وغیرہ موجود تھے۔
دوسرےمرحلےمیں ڈاکٹر محمد حنیف شباب کی نگرانی میں دستور کے فرائض اور حقوق پر پینل ڈسکشن ہوا۔ جس میں شہر کے ماہر تعلیم و قانون محمد یسین محتشم، مشہور وکیل عمران لنکا، سہیل مجاور اور صحافی و شاعر مولانا سید سالک ندوی نے بطور پینلسٹ کے طورپر شرکت کرتےہوئے دستور کے تحت تعلیمی ، مذہبی ، رائے اظہار کی آزادی اور صحافت کا رول جیسے اہم موضوعات پر اظہارخیال کیا۔ آخری مرحلےمیں دستور پر مبنی ایک آن لائن کوئز کا مقابلہ منعقد ہوا۔ جیت حاصل کرنےوالوں کو انعام دیاگیاتو نگراں کار، پینلسٹ اور مہمان خصوصی کو میمونٹو پیش کیاگیا۔